ابنا:پاکستان کے خلاف الزام تراشي کے نئے سلسلے کے تحت امريکي صدر باراک اوباما نے اسلام آباد پر نا پسنديدہ عناصر کے ساتھ رابطوں کا الزام عائد کيا ہے-
بلومبرگ کي رپورٹ کے مطابق امريکي صدر باراک اوباما نے وائٹ ہاوس ميں پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر کڑي نکتہ چيني کي جسے انہوں نے افغانستان اور دہشتگردي کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان کا غير ذمہ دارانہ رويہ قرار ديا- انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ناپسنديد عناصر کے ساتھ تعلقات دہشتگردي اور انتہا پسندي کے خاتمے کے امريکي موقف کے ساتھ متصادم ہيں-
امريکي صدر کے مطابق ناپسنديدہ عناصر پاکستان کے ساتھ تعلقات کے بھروسے پر افغانستان سے امريکہ اور نيٹو کے فوجيوں کے چلے جانے کے بعد وہاں دوبارہ قابض ہونے کي کوشش کررہے ہيں- اوباما نے مزيد کہا کہ اس بات ميں کوئي شک نہيں ہے کہ اگر حکومت امريکہ اس نتيجے پر پہنچي کہ پاکستان امريکي مفادات کو مدنظر نہيں رکھ رہا ہے تو ہميں پاکستان کے ساتھ اپنے طويل المدت تعلقات پر نظر ثاني کرنا پڑے گي- انہوں نے کہا کہ حکومت امريکہ کے خيال ميں پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے بعض معاملات ميں اچھا کردار ادا نہيں کيا ہے- ادھر امريکي وزير دفاع ليون پنيٹا نے بھي کہا ہے کہ کچھ شدت پسند گروہوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہيں جسکي وجہ سے دونوں ملکوں کے درميان شديد اختلافات پيدا ہوگئے ہيں- امريکي تھنک ٹينک سے خطاب کرتے ہوئے ليون پنيٹا نے کہا کہ امريکہ اور پاکستان کے تعلقات ميں پيچيدگي کي کئي ايک وجوہات ہيں جن ميں ايک پاکستان کے بعض شدت پسندگروہوں کے ساتھ تعلقات بھي ہيں-
امريکہ کي جانب سے پاکستان کے خلاف الزام تراشي کا سلسلہ ايسي حالت ميں جاري ہے جب امريکي وزير خارجہ ہيلير کلنٹن نے اس بات کا عنديہ ديا ہے کہ انکا ملک حقاني نيٹ ورک سے مذاکرات کے لئے تيار ہے-اپنے ايک انٹرويو ميں انہوں نے کہا کہ امريکہ افغانستان ميں بقول ان کے قيام امن کے لئے، حقاني نيٹ ورک سميت تمام فريقوں سے بات چيت کے لئے تيار ہے- انکا کہنا تھا کہ امريکہ حقاني نيٹ ورک سميت تمام فريقوں سے امن معاہدے بھي کرسکتا ہے-..........
/169